كچھ مقابلہ كے بارے ميں
 

شيخ جاسم بن محمد بن ثانى قرآنى مقابلہ، عام قرآنى مقابلوں ميں سب سے قديم، شاخوں كے اعتبار سے سب سے وسيع اور قطر كى ہم زمانہ تاريخ ميں انعام كے اعتبار سے سب سے برتر ہے ۔
جديد ملكِ قطر كے فاؤنڈر، شيخ جاسم بن محمد بن ثانى كے طريقہ پر حقيقى اقدار كى تكميل كے لئے يہ مقابلہ، ايك قابل تعريف مثال، عقلمند قيادت كا ايك بہترين مجسمہ، نيز قرآن واہل قرآن كى خدمت اور اس كے رسول كى محبت ميں اہل قطر كا اپنے آپ كو مٹادينے كا پرتو ہے ۔
الله تعالى كى عزيز كتاب كے حفظ وتلاوت اور اسميں تدبر اور اہل قرآن كى خدمت كى قدردانى (جو كہ اوقاف اوراسلامى امور كى وزارت كى پہلى ترجيحات ميں سے ايك ہے)، ايك ايسى قطرى جنريشن كى پيداوار ميں معاونت، جو الله تعالى كى كتاب كى حافظ ہو نيز قرآن كريم اور اسكے علوم كے مختلف شعبوں ميں قابل تعريف مقابلوں كو ترقى كى راه پر گامژن كرنا، اس مقابلہ كا اہم مقصد ہے ۔
مختلف قسم كےعلم قراءات روشنى ميں قرآن كى تلاوت پر نوجوانوں كى ہمت افزائى، قراءات كے علم وفن كو سينوں ميں محفوظ ركھنے كى غرض سے منعقد كئے جانے والے قرآنى مقابلوں كے لئے (اس مقابلہ كا )باعث فخر ہونا ، قرآنى نہج پر اس سمعى، لغوى، معاشرتى اور انسانى تنوع كو بے نيازى عطا كرنا، اس انعامى مقابلے كى امتيازى شان ہے ۔
الله تعالى كى عزيز كتاب كو ياد كرنے پر صنفين كى ہمت افزائى اس مقابلہ كے لئے باعثِ فخر ہے، اور اس كى ايك خاصيت يہ بھى ہے كہ يہ ايك ايسے قرآنى قطري پيڑھى كو پيدا كرنے كے لئے سعى پيہم كر رہا ہے جو اپنے دين پر فخر كرسكے، اور اپنے زمانے كے لئے مثقف اور مہذب ہو ، اور ايسے ہى كم عمر اور نوجوان نسل كى فكر ميں لگے رہنا بھى اس كى ايك شان ہے اور ساتھ ہى ساتھ نئے مسلمانوں كا مكمل طور پر خيال كرتے ہوئے ان كو نئے ماحول ميں ڈھالنا بھى اس مقابلہ كى ذمہ داريوں ميں سے ايك ہے ۔
عربى زبان نہ بولنے والوں كى خاطر اس مقابلہ نے ايك شاخ قائم كى جس نے اس كو ايك امتيازى شان بخشى اور ساتھ ہى ساتھ اس نے ان كے دينى شعار كے حسن ادائيگى پر ان كى مدد بھى كى، نيز يہ مقابلہ عالمى سطح پر پورى قوت كے ساتھ عربى زبان كى نشر واشاعت ميں معاون ثابت ہو رہا ہے ۔
اور ساتھ ہى ساتھ متعدد كميونٹيز كى شراكت بھى اسكے لئے باعث فخر ہے اور ان اہم شراكات ميں سے چند يہ ہيں:
"إذاعة القرآن الكريم" (قرآن كريم كى نشريات) اور "اہل القرآن" (قرآن والے) پروگرام، كے ساتھ اسكى شراكت، اور "أول الأوائل" (پہلوں كا پہلا) مقابلہ ميں عالمى طور پر منفرد ہونا جس كے اندر بين الاقوامى قرآنى مقابلوں ميں صرف پہلى پوزيشن حاصل كرنے والے ہى شركت كر سكتے ہيں ۔
اس شاندار مقابلہ كے كچھ اعلى مقاصد بھى ہيں جن ميں سے چند اہم يہ بھى ہيں:
• قرآن كريم كى عزت واحترام كا حد سے زيادہ اظہار ۔
• الله تعالى كى مكتوب آيتوں كو ياد كرنے اور ان ميں غور وفكر كرنے پر ہمت افزائى ۔
• تلاوت وتدبر اور عمل كى غرض سے مسلم جنريشن كو الله تعالى كى عزيز كتاب كے ساتھ جوڑنا ۔
• اس نيك مقصد كوحاصل كرنے كے لئے حفاظ كرام كے ما بين ايك دوسرے پر سبقت كرنے والى روح كو زندہ كرنا ۔
• چھوٹے امور كو چھوڑكر، بڑے امور كے ساتھ مشغول ہونے كے لئےان كے ارادوں اور عزائم كو بلند كرنا ۔
• قرآن كے ساتھ گہرا تعلق ركھنے والى ايك ايسى نسل تيار كرنا جو اس امت كے لئے ذخيرہ ثابت ہو ۔
• اہل قرآن ميں سے جو لوگ ماہر ہيں ان كى عزت افزائى كرنا اور دوسروں كے اندر ان كى تقليد كے لئے رغبت پيدا كرنا۔
• اہل علم اور كتاب الله كے حفاظ كى قدردانى ميں سلف صالحين كے نقش قدم پر چلنا ۔
• اس بات پر زور دينا كہ پريشانيوں سے امت (مسلمہ) كو نكالنے والى چيز محض قرآن مجيد سے نزديكى ہے ۔
• سركشى اور فتنوں كے اندھيروں سے نجات دينے والى چيز كے بارے ميں امت كو كا راستہ دكھانا ۔